بنگلورو،8؍دسمبر(ایس او نیوز)انسداد گؤ کشی قانون لانے سے قبل حکومت ریاست میں گائے کی تجارت پر باپندی لگائے۔یہ چیلنج سابق وزیر اور کانگریس کے لیڈر یو ٹی قادر نے ریاست کی بی جے پی حکومت کو دیا ہے۔ ریاستی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ریاستی حکومت کی طرف سے پیش کئے جانے وا لے مبینہ انسداد گؤ کشی سے متعلق اسمبلی لاؤنج میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے یو ٹی قادر نے کہا بی جے پی حکومت انسداد گؤ کشی قانون کے ذریعہ ریاستی عوام کے مذہبی جذبات بھڑکانے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ انسداد گؤ کشی سے متعلق ریاست میں پہلے ہی سے قانون ہے،اس کے باوجود بی جے پی نیا قانون لانے کی بات کر رہی ہے۔ حکومت انسداد گؤ کشی قانون سے متعلق بل اسمبلی میں پیش کرے تب ہم تفصیل سے اس قانون پر بحث کریں گے۔
قادر نے کہا کہ بی جے پی کرناٹک میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگانے کی بات کرتی ہے۔ جبکہ ریاست کی پڑوسی ریاست کیرلا اور گوا میں گائے کے ذبیحہ پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ بی جے پی والے ان ریاستوں میں انسداد گؤ کشی قانوں کی بات کیوں کرتے۔ قادر نے کہا کہ بی جے پی کے قومی لیڈر ایک ملک ایک قانون کی بات کرتے ہیں، وہ پورے ملک میں انسداد گؤ کشی قانون لانے کی بات کیوں نہیں کرتے۔ ملک کے ایک حصہ کے عوام کو گائے کا گوشت کھانے کی اجازت، دوسرے حصہ میں گائے کے گوشت پر پابندی کا کیا مطلب ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسداد گؤ کشی قانون سے ریاست میں مورل (اخلاقی) پولیسنگ کو بڑھا وا ملے گا۔ قانون کے نام پر ایک مخصوص کو نشانہ بنا یا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے، عوام کو راشن کارڈ نہیں ملتے ہیں، سیلاب متاثرین کو معاوضہ فراہم کرنے اور روزگار کے مواقع مہیا کرانے میں ریاستی حکومت بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ ان مسئلوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے ریاست کی بی جے پی حکومت انسداد گؤ کشی قانون کے ذریعہ مذہبی جذبات بھڑکانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ریاست میں گرام پنچایتوں کے انتخابات ہونے والے ہیں، حکومت متنازعہ قانون کے عوام کے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مرکز اور ریاستی حکومتوں کی طرف کسان مخالف قوانین لائے جا رہے ہیں، اراضی اصلاحات کے نام پر کسانوں کو پریشان کیا جا رہاہے۔ ان قوانین کے خلاف پورے ملک کے کسان سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ قادر نے کہا کہ ریاست کی بی جے پی حکومت نے اسمبلی میں بغیر کسی بحث کے اراضی اصلاحات قانون جاری کردیا۔ انسداد گؤ کشی قانون بل اسمبلی میں پیش کرنا چاہتی ہے۔ اس کا مطلب بالکل صاف ہے کہ بی جے پی اسمبلی میں اس قانون پر بحث کے ذریعہ عوام کے مذہبی جذبات بھڑکانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا بی جے پی والے گائے کے تحفظ کے سلسلہ میں سنجیدہ نہیں ہیں، اگر وہ واقعی سنجیدہ ہوتے تو پہلے سے موجود انسداد گؤ کشی قانون کومزید سخت بنانے کی کوشش کرتے۔ قادر نے کہا کہ بی جے پی والے عوام کے مذہبی جذبات بھڑکا کر سیاسی فائدے حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی لئے وہ تبدیلی مذہب مخالف قانوں لانے کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لو جہاد کے نام پر ملک میں ایک ہوا کھڑا کردیاگیاہے، جبکہ ملک میں لو جہاد نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ جہاد ایک عربی لفظ ہے، ان لوگوں کو مقامی زبانوں میں جہاد کا کو متبادل لفظ نہیں ملا، چونکہ لفظ جہاد سے ایک مخصوص طبقہ کی شناخت ہے، بی جے پی والی تبدیلی ئمذہب کو بھی سیاسی رنگ دینے کو کوشش کر رہے ہیں۔ جبکہ ہمارے ملک کا آئین شہریوں کو اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
لینڈ ریفارم ایکٹ میں ترمیم کو لے کر اسمبلی میں ہنگامہ
بنگلورو،8؍دسمبر (ایس او نیوز) ریاست میں لینڈ ریفارم ایکٹ میں ترمیم کو لے کر اسمبلی میں ایک مرتبہ پھر ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ حکومت نے لینڈ ریفارم ترمیمی قانون گزشتہ اسمبلی میں بھی پیش کیا تھا۔ لیکن قانون ساز کونسل میں ترمیمی قانون کو منظوری نہ ملنے کی وجہ سے ریاستی اسمبلی میں قانون پاس نہیں ہوسکاتھا۔ آج جب اسمبلی اجلاس شروع ہوا تو وزیر مالگزاری آر اشوک نے قانون کا مسودہ بل قانون ساز کونسل میں پیش کیا تو کانگریس اور جنتادل (ایس) کے اراکین نے اس کی مخالفت کی۔کونسل میں اپوزیشن لیڈر ایس آر پاٹل نے کہا کہ اراضی اصلاحات کے خلاف ملک کے کسانوں نے احتجاج شروع کیا ہے۔